نماز کی اہمیت

سيف الرحمن التيمي
1443/04/07 - 2021/11/12 13:09PM

موضوع الخطبة :أهمية الصلاة
الخطيب : فضيلة الشيخ ماجد بن سليمان الرسي/ حفظه الله
لغة الترجمة : الأردو
المترجم :سيف الرحمن التيمي((@Ghiras_4T
موضوع:
نماز کی اہمیت
پہلا خطبہ:
إنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إلـٰه إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُون).
(يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاء وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبا).
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيداً * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِيما).
حمد وصلاۃ کے بعد:
سب سے بہترین کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد کا طریقہ ہے، سب سے بدترین چیز دین میں ایجاد کردہ بدعتیں ہیں، اور (دین میں) ہر ایجاد کردہ چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
اے مسلمانو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کا خوف ہمیشہ اپنے دل میں زندہ رکھو، اس کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو، جان رکھو کہ نماز تمہارا ایک بہترین عمل ہے، شریعت میں اس کی اہمیت کے دس گوشے ہیں:
۱-پہلا: نماز ہی وہ عبادت ہے جسے اللہ نے شہادتین کے بعد سب سے پہلے فرض کیا، اس طرح وہ اسلام کا دوسرا رکن ہے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا" ۔
۲-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ مدینہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے سے قبل مکی زندگی کے دوران سنہ ۳ بعثت نبوی کو اسرا ء ومعراج کے موقع سے آسمان پر فرض ہوئی، چنانچہ اللہ نے ساتویں آسمان پر پنج وقتہ نمازیں کسی فرشتہ کے واسطہ کے بغیر اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بلا واسطہ خطاب کے ذریعہ فرض کیا۔
۳-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ دین میں اس کا مقام ومرتبہ اتنا بلند ہے کہ کوئی دوسری عبادت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، چنانچہ وہ دین کا ایسا ستون ہے جس کے بغیر اس کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتادوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول ! (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔
۴-نماز کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ بندہ اور اس کے رب کے درمیان سرگوشی کا وسیلہ ہے، کیوں کہ وہ (ایک ساتھ) دل، زبان اور جسم سے اللہ کا ذکر کرنے پر مشتمل ہوتی ہے، جیسے اللہ عزوجل کے حمد وثنا بیان کرنا اور اس سے دعا کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا، تسبیح وتحمید اور تکبیر کہنا، اعضاء وجوارح سے خشوع وخضوع کا مظاہرہ کرنا، جیسے رکوع وسجود کرنا، انکساری اور عاجزی کے ساتھ قیام کرنا ، عزیز وبرتر پروردگار کے سامنے نگاہیں جھکائے رکھنا، نماز میں اعضاء وجوارح کی اتنی عبادتیں یکجا ہوتی ہیں جو دوسری کسی عبادت میں نہیں ہوتیں۔
۵-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ ہے بھی کہ بہت سے ایسے امور اس کے ساتھ خاص ہیں جو دیگر عبادتوں میں نہیں پائی جاتے، جن میں سے چند اہم امور یہ ہیں:
• اس کے لئے پکارنا، جوکہ اذان کہلاتا ہے۔
• اس کے لئے طہارت حاصل کرنا واجب ہے۔
• اس کے لئے سکون اور وقار کے ساتھ جانا۔
• اس میں تمام اعضاء وجوارح کی ایسی عبادتیں پائی جاتی ہیں جو دیگر عبادتوں میں نہیں پائی جاتیں۔
۶-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ سفر وحضر ، خوف وہیبت، امن وامان ، تندرستی اور بیماری ہر حال میں اسے ادا کرنا واجب ہے، الا یہ کہ انسان کو ایسی بیماری لاحق ہو جس کی وجہ سے عقل اور ہوش وحواس غائب ہوجائیں۔
۷-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں اس کی وصیت فرمائی، چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مرض میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس کے دوران میں آپ فرمایا کرتے تھے: "نماز (کی حفاظت کرو) اور (ان لونڈی ، غلاموں کی) جو تمہارے ہاتھوں کی ملکیت ہیں"۔ آپ نے یہ الفاظ بار بار فرمائے حتی کہ آپ کی زبان مبارک رک گئی ۔
یعنی جب تک زبان چلتی رہی آپ اس کی وصیت کرتے تھے۔
۸-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ ہےکہ نماز ہی وہ عمل ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن بندہ سے سب سے پہلے سوال کیا جائے گا، ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ کے جس عمل کا حساب وکتاب لیا جائے گا وہ نماز ہے، آپ نے فرمایا: اللہ عزیز وبرتر فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جاننے والا ہے: (میرے بندے کی نماز دیکھو! کیا اس نے اس کو پورا کیا ہے یا اس میں کوئی کمی ہے؟)۔چنانچہ اگر وہ کامل ہوئی تو پوری کی پوری لکھ دی جائے گی اور اگر اس میں کوئی کمی ہوئی تو فرمائے گا کہ دیکھو! کیا میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں؟ اگر نفل ہوئے تو وہ فرمائے گا کہ میرے بندے کے فرضوں کو اس کے نفلوں سے پورا کردو۔ پھر اسی انداز سے دیگر اعمال لیے جائیں گے ۔
۹-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آخری زمانہ میں نماز دین کا وہ آخری حصہ ہوگا جو لوگوں کے درمیان مفقود ہوجائے گا، اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے: ایک ایک کرکے اسلام کے سارے بندھن ٹوٹ جائیں گے، جب بھی ایک بندھن ٹوٹے گا تو لوگ اس کے بعد والے بندھن سے جڑ جائیں گے، سب سے پہلے ٹوٹنے والا بندھن حکومت اور سب سے اخیر میں ٹوٹنے والا بندھن نماز ہوگی ۔
۱۰-نماز کی اہمیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ اسلام او رکفر کے درمیان حد فاصل ہے، چنانچہ بریدۃ بن الحصیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہمارے اور کافروں کے درمیان امتیاز نماز سے ہے ،جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا ۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک آدمی اور شرک وکفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے" ۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے، اور ہمارے قبلے کی طرح منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ حاصل ہے، لہذا تم اللہ کے ذمے میں خیانت (بد عہدی) نہ کرو" ۔
اے مسلمانو! یہ وہ دس دلائل ہیں جو نماز کی اہمیت پر دلالت کرتے ہیں، اللہ تعالی تمام لوگوں کو اپنے حکم کے مطابق نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآ ن کی برکت سے مالا مال کرے ، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیتوں اور حکمت پر مبنی نصیحت سے فائدہ پہنچائے ، میں اپنی یہ بات کہتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے بخشش طلب کریں، یقینا وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ:
الحمد لله وحده ، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد:
حمد وصلاۃ کے بعد:
آپ جان رکھیں-اللہ آپ پر رحم فرمائے-کہ نماز بندہ اور اس کے رب کے درمیان سرگوشی کا ایک وسیلہ ہے، کیوں کہ وہ دعا اور اللہ کی حمد وثنا، تلاوت قرآن، تسبیح وتحمید اور تکبیر، اعضاء وجوارح کے خشوع وخضوع پر مشتمل ہے، جیسے رکوع وسجود کرنا، عاجزی وانکساری کے ساتھ قیام کرنا، اور عزیز وبرتر پروردگار کے سامنے نگاہیں پست رکھنا۔ شیخ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ فرمان باری تعالی:﴿إن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر ولذكر الله أكبر﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: نیز نماز کے اندر اس سے بھی بڑا مقصد پنہاں ہے، وہ یہ کہ نماز ایک ساتھ دل، زبان اور بدن ہر ایک کے ذریعہ اللہ کا ذکر کرنے پر مشتمل ہے، اللہ تعالی نے بندوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا اور سب سے افضل عبادت جسے بندہ انجام دیتا ہے وہ نماز ہے، اس کے اندر تمام اعضائے جسم کی اتنی عبادتیں یکجا ہوتی ہیں کہ دیگر کسی عبادت میں یکجا نہیں ہوتی، اسی لئے اللہ نے فرمایا: ﴿ولذكر الله أكبر﴾.
ترجمہ: اور اللہ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے۔
آپ یہ بھی یاد رکھیں -اللہ آپ کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے-کہ اللہ نے آپ کو ایک بہت بڑے عمل کا حکم دیا ہے،اللہ فرماتا ہے:
(إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)
ترجمہ:اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں،اے ایمان والو!تم(بھی)ان پر درود بھیجو اور خوب سلام(بھی)بھیجتے رہا کرو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کو جمعہ کےدن اپنےاوپر بکثرت درود وسلام بھیجنے کی رغبت دیتے ہوئے فرمایا:"تمہارے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن بھی ایک بہتر دن ہے، اس لئے اس دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، کیوں کہ تمہارا درودوسلام میرے اوپر پیش کیا جاتا ہے"۔اے اللہ تو اپنے بندے اور رسول محمد پر رحمت و سلامتی بھیج،تو ان کے خلفاء ،تابعین عظام اور قیامت تک اخلاص کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والوں سے راضی ہوجا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما،شرک اور مشرکین کو ذلیل وخوار کر،تواپنے اور دین اسلام کے دشمنوں کو نیست ونابود کردے،اور اپنے موحد بندوں کی مدد فرما،اے اللہ! تو ہمیں اپنے ملکوں میں سلامتی عطا کر،ہمارے اماموں اور ہمارے حاکموں کی اصلاح فرما،انہیں ہدایت کی رہنمائی کرنےوالا اور ہدایت پر چلنے والا بنا۔
اے اللہ جو ہمارے تئیں،اسلام اور مسلمانوں کے تئیں شر کا ارادہ رکھے تواسے اپنی ذات میں مشغول کردے،اور اس کے مکر وفریب کو اس کےلئے وبال جان بنا۔
اے اللہ مہنگائی ! وبا،سود،زنا،زلزلوں اور آزمائشوں کو ہم سے دور کردے اور ظاہری وباطنی فتنوں کی برائیوں کو ہمارے درمیان سے اٹھا لے،خصوصی طور پر ہمارے ملک سے اور عمومی طور تمام مسلمانوں کے ملکوں سے ،اے دونوں جہاں کے پالنہار! اے اللہ ہم سے آفت ومصیبت کو دور فرما،یقینا ہم مسلمان ہیں۔
اے اللہ تو تمام مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی کتاب کو نافذ کرنےاور اپنے دین کو سربلند کرنے کی توفیق سے نواز اور انہیں ان کے رعایہ کے لیے باعث رحمت بنا۔
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما،اور عذاب جہنم سے نجات بخش۔
اے اللہ کے بندو! یقینا اللہ تعالی عدل کا،بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں،ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے۔ وہ خود تمہیں نصیحتیں کررہاہے کہ تم نصیحت حاصل کرو،اس لئے تم اللہ عظیم کا ذکر کرو وہ تمہارا ذکر کرے گا،اس کی نعمتوں پر اس کا شکر بجا لاؤ وہ تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے گا،اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے،تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اس سے باخبر ہے۔

از قلم:ماجد بن سلیمان الرسی۔
۲۲ صفر ۱۴۴۲ھ۔
شہر جبیل مملکہ سعودیہ عربیہ
مترجم:
سیف الرحمن تیمی
binhifzurrahman@gmail.com

المرفقات

1636722545_نماز کی اہمیت.pdf

المشاهدات 126 | التعليقات 0