اللہ تعالی : غفور اور غفار ہے

سيف الرحمن التيمي
1443/03/03 - 2021/10/09 05:22AM

موضوع الخطبة            :        الله الغفور الغفار

الخطيب                     : حسام بن عبد العزيز/ حفظه الله

لغة الترجمة                 : الأردو

المترجم                      :سيف الرحمن التيمي((@Ghiras_4T

موضوع:

اللہ تعالی : غفور اور غفار ہے

 

پہلا خطبہ:

الحمد لله الواسعِ المجيدِ النصير، الكافيِ المتينِ القدير، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، الغفورُ الودودُ الكبير، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله خُلُقُه القرآن، أكُرِم بالشفاعة وأعلى الجنان، صلى الله عليه وعلى آله وصحبه وسلَّم تسليمًا كثيرًا.

حمد وثنا کے بعد!

میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ [الحديد: 28]

ترجمہ: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لا ؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرمادے گا۔اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

رحمن کے بندو! اللہ پاک سے متعلق گفتگو کرنے سے ہمارے اندر رقت ِ قلبی پیدا ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، اور جب ایمان میں قوت آتی ہے تو مومن اطاعت وعبادت کے لئے متوجہ ہوتا  اور  معصیت ونافرمانی سے متنفر ہوتا ہے ، ذکر اور علم کی مجالس  کی یہ فضیلت بھی ثابت ہے کہ فرشتے ان مجلسوں کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت ان پر سایہ فگن ہوتی  ہے، ان مجالس پر سکونت اور وقار نازل ہوتا ہے، اللہ تعالی اپنے پاس  (فرشتوں کے درمیان) ان کا تذکرہ کرتا ہے اور ان کی مغفرت فرماتا ہے، ہم اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں ، آج  ہم اللہ کے اسم گرامی (الغفور) کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

اے ایمانی بھائیو! اللہ پاک کی مغفرت میں گناہ کی معافی وتلافی  اور بندہ کی ستر پوشی بھی شامل ہوتی  ہیں،  اللہ کے اسم گرامی (الغفور) کا ہم معنی   : (غافر الذنب) بھی ہے،  یہ  اسم اللہ پاک کے فرمان میں ایک جگہ  وارد ہوا  ہے: ﴿ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴾ [غافر: 3]

ترجمہ: گناہ کا بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا، سخت عذاب والا ، انعام وقدرت والا ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔

(الغفور) کا ایک ہم معنی اسم : (الغفار) بھی ہے، قرآن کریم میں یہ اسم پانچ مقامات پر آیا ہے، ان میں اللہ کا یہ فرمان بھی ہے: ﴿ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى ﴾ [طه: 82]

ترجمہ: ہاں بے شک انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں،  ایمان لائیں، نیک عمل کریں اور راہ راست پر بھی رہیں۔

شیخ سعدی اللہ کے فرمان : ﴿لَغَفَّارٌ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی: بہت  زیادہ معاف کرنے والا اور خوب رحم کرنے والا۔

رہی بات اسم (الغفور) کی تو یہ اسمِ گرامی قرآن میں اکیانوے ( ۹۱)  مقامات پر آیا ہے، ان میں سے یہ اسم  بہتر (۷۲) مقامات پر اسم (الرحیم) کے ساتھ وارد ہوا ہے،   گویا یہ سبب کو نتیجہ کے ساتھ ذکر کرنے کے قبیل سے ہے، کیوں کہ بندوں کو اللہ پاک کی مغفرت  اس کی رحمت کے سبب حاصل ہوتی ہے، نیز اسم (الغفور)  اسم (العزیز) کے ساتھ بھی وارد ہوا ہے: ﴿ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ﴾ [الزمر: 5]

ترجمہ : نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ، وہ رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے، ہر ایک مقررہ مدت تک چل رہا ہے۔ یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے والا ہے۔

ان دونوں اسموں کے درمیان امتزاج کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت اس کی عزت وسربلندی اور قوت وقدرت کے ساتھ حاصل ہوتی ہے، ناکہ کمزوری اور عاجزی کی وجہ سے ، یہی وجہ ہے کہ لوگ اس شخص  کی عزت وتکریم کرتے ہیں جو قدرت کے باوجود معاف کردے!

اسی طرح اسم (الغفور) کا ذکر اسم (الودود ) کے ساتھ بھی ہوا ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: ﴿ وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ ﴾ [البروج: 14]

ترجمہ:وہ بڑا بخشنے والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔

اس آیت میں بندہ کے لئے بشارت وخوش خبری ہے کہ اللہ بندہ کو معاف کرتا اور اس سے محبت بھی رکھتا  ہے۔جیسا کہ اللہ پاک  نے اپنی ذات کے بارے میں فرمایا: ﴿ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ ﴾ [البقرة: 222]

ترجمہ: اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

جبکہ انسان کی صورت حال یہ ہے کہ اگر وہ معاف کربھی دے تو  محبت نہیں کرتا،  اور کبھی معاف کرتا ہے تو خوف ووحشت اور بدسلوکی برقرار رہتی ہے۔لیکن (اللہ) جو الغفور الکریم  ہے وہ ایسا نہیں کرتا!

اسم گرامی (الغفور) کا ذکر   (العفُوّ) کے ساتھ بھی ہوا ہے: ﴿ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ﴾ [النساء: 43]

ترجمہ: بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔

یہ دونوں اسمائے گرامی ہم معنی ہیں،  ان کے اندر مؤاخذہ اور گرفت   نہ کرنے کا معنی پایا جاتا  ہے،  البتہ (الغفور) کے اندر ستر پوشی کا اضافی معنی بھی پایا جاتا ہے، اسی سے لئے ماضی میں مجاہد اپنی ٹوپی کے نیچے زرہ سے جڑا ہوا  جو خود پہنتا تھا ، اسے (عربی میں)  مِغفَر  کہا جاتا ہے، تاکہ وہ اس کی حفاظت کرے  اور  ساتھ ہی  اس (کے سرکو) چھپائے بھی رکھے۔

اللہ کے بندو! اللہ تعالی نے اپنی ذات کو غفور سے موسوم کیا ہے، کیوں کہ جب اس نے مخلوق کو پیدا کیا تو وہ جانتا تھا کہ وہ گناہ کرے گی اور مغفرت طلب کرے گی، صحیح حدیث میں آیا ہےکہ: " اس ذات كی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم (لوگ) گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تم کو (اس دنیا سے) لے جائے اور (تمہارے بدلے میں) ایسی قوم کو لے آئے جو گناہ کریں اور اللہ تعالی سے مغفرت مانگیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے" (مسلم)۔

ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،  انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:  "ایک بندے نے بہت گناہ کئے اور کہا: اے میرے رب! میں تیرا ہی گنہگار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا، اسے بھی بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا اور  اس کی وجہ سے  سزا بھی دیتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ، پس اب جو چاہے عمل کرے"۔(بخاری ومسلم)

اگر آپ کے پاس شیطان اور گناہ کو آسان اور معمولی بناکر پیش کرے تو آپ اسے کہیں کہ اے خبیث: ﴿ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ﴾ [التوبة: 4]

ترجمہ: اللہ تعالی پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

اور کہیں کہ: اے ذلیل وخوار: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴾ [الملك: 12]

ترجمہ: بے شک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا  ثواب ہے۔

میرے احباب! اللہ پاک نے جب نصرانیوں کا یہ قول ذکر فرمایا: ﴿ إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ﴾ [المائدة: 73] ترجمہ: اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔

تو  اس کے بعد فرمایا: ﴿ أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ [المائدة: 74]

ترجمہ:  یہ لوگ کیوں اللہ تعالی کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے ، اللہ تعالی تو بہت ہی بخشنے والا اور بڑا ہی مہربان ہے۔

اے اللہ!  ہمیں بخش دے وہ کوتاہیاں  جو ہم نے پہلے کیں، جو بعد میں کیں، جو پوشیدہ کیں اور جنہیں ظاہر کیا اور  ہم  میں حدسے  گزرتے رہے اور وہ جن کے متعلق تو  ہم سے زیادہ باخبر ہے۔ تو ہی (جسے چاہے) آگے کرنے والا اور (جسے چاہے) پیچھے رکھنے والا ہے۔(نیکی کی توفیق دیتا ہے یا محروم کردیتا ہے) تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔

﴿ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ ﴾ [المؤمنون: 118]

ترجمہ: اے میرے رب !توبخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

الحمد لله القائل: ﴿ نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ * وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ﴾ [الحجر: 49، 50]، وصلى الله وسلم على نبيه المخبر عن ربه أنه ينادي كل ليلة في الثلث الأخير: "هل من مستغفرٍ فأغفر له"، وعلى آله وصحبه.

حمد وصلاۃ کے بعد:

الغفور  (اللہ) کی رحمت ہے کہ اس نے ہمارے لئے بہت سے اعمال کو گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنایا ہے،  چنانچہ توحید، پنج وقتہ نمازوں، نماز کے لئے چل کر جانے، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنے، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے  کو حصول مغفرت کا ذریعہ بنایا ہے۔اسی طرح جمعہ کی نماز، رمضان کے روزےاور تہجد، شب قدر کا قیام اللیل، صدقہ وحج اور سارے اذکار اور نیک اعمال کو حصول مغفرت کا وسیلہ بنایا ہے، بسااوقات اللہ تعالی بندے کو کسی ایسے عمل کی وجہ سے بھی معاف کردیتا  ہے جسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا!

رحمن کے بندو! اللہ کے اسم گرامی (الغفور) پر ایمان لانے سے بندہ  پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے : اللہ سے محبت، بندوں کے تئیں اس کی رحمت اور ان کے گناہوں کی مغفرت پر اس کا شکر ۔

ان اثرات میں سے یہ بھی ہے کہ :  اللہ کے در سے  بھٹکے ہوئے  لوگوں کے لئے امید کا دروازہ کھل جاتا ہے، اللہ غفور ورحیم کا فرمان ہے: ﴿ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾ [الزمر: 53]

ترجمہ:کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔

ان اثرات میں سے یہ بھی ہے کہ: (بندہ) کثرت سے نیک اعمال بجالاتا ہے، اللہ پاک کا فرمان ہے:﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [هود: 114]

ترجمہ: یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔

حدیث میں آیا ہےکہ: "ایک زانیہ عورت صرف اس لئے بخش دی گئی کہ اس کا گزر ایک کتے پر ہوا جو ایک کنویں کے کنارے بیٹھا پیاس کی وجہ سے زبان نکالے ہانپے جا رہا تھا اور مرنے کے قریب تھا تو اس عورت نے اپنا موزہ اتارا اور اسے اپنے دوپٹے سے باندھ کر اس کے لئے کنویں سے پانی نکالا، بس اسی وجہ سے اسے معاف کردیا گیا "۔(بخاری ومسلم)

اللہ کے اسم گرامی (الغفور) پر ایمان لانے کےاثرات میں یہ بھی ہے کہ: بندہ اپنے لئے، اپنے والدین اور مسلمان بھائیوں کے لئے کثرت سے بخشش کی دعا اور استغفار کرتا ہے،کیوں کہ استغفار دل (کی بیماریوں) کی دوا اور گناہوں کو مٹانے کا ذریعہ ہے، مغفرت کی دعا کرنے سے وہ شخص بھی مستفید ہوتا ہے جس کے گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں، بایں معنی کہ اس کے درجات بلند کئے جاتے ہیں، حدیث میں آیا ہے:"جنت میں آدمی کا درجہ بلند کیا جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے: یہ کس وجہ سے ہوا؟ اسے کہا جاتا ہے: تیری اولاد کے تیرے لئے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے"۔(اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح کہا ہے)۔

اللہ کے اسم گرامی (الغفور) پر ایمان لانے کا ایک اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ : اللہ سے حسن ظن قائم ہوتا اور اچھی  امید برقرار رہتی  ہے ،  (بندہ) اپنے رب سے توبہ وانابت کرتا اور پاک پروردگار سے حیا محسوس کرتا ہے۔نیز اس کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ: (انسان) لوگوں کی خطاؤں کو درگزر کرنے اور ان کی غلطیوں کی ستر پوشی کرنے کے لئے اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرتا ہے، اللہ پاک نے اپنے متقی بندو ں کے تعلق سے فرمایا: ﴿ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ﴾ [آل عمران: 134]

ترجمہ: لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔

نیز فرمایا: ﴿ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ [النور: 22]

ترجمہ : بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہئے ، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالی تمہارے قصور معاف فرمادے ؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے والا مہربان ہے۔

اور حدیث میں آیا ہےکہ: "ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا ، اس نے اپنے نوکر کو یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم کسی تنگدست کے پاس  جاؤ تو اسے معاف کردیا کرو ، ممکن ہے کہ اللہ تعالی ایسا کرنے سے ہمیں بھی معاف کردے، چنانچہ جب اس کی اللہ تعالی سے ملاقات ہوئی تو اللہ نے اسے معاف کردیا"۔(مسلم)

کیا ہی  خوب ہوتا کہ ہم آپس میں عفو ودرگزر کو رواج دیتے ، رشتہ دار اپنے رشتہ دار کے ساتھ ، ساتھی اپنے ساتھی کے ساتھ ، استاد اپنے شاگرد کے ساتھ اور شوہر اپنی بیوی کے ساتھ۔

 أسيرُ الخطايا رهينُ البلايا 

كثيرُ الشكايا قليلُ الحيل 

يُرَجِّيْك عفوًا وأنتَ الذي 

تجودُ على من عصى أو غفل 

إلهي أثِبْني إلهي أجبني 

ووفِّقْ -إلهي- لخيرِ العمل 
ترجمہ: خطاؤں میں گرفتار انسان مصائب کے شکنجے میں ہوتا ہے۔کثرت سے شکوہ   کرنے والے شخص کے پاس تدبیر کے راستے بہت کم ہوتے ہیں۔وہ تجھ سے عفو ودرگزر کی امید لگائے بیٹھا ہے اور تو  ہی  عاصی وغافل پر بھی جود وسخا کی برکھا برساتا ہے۔اے میرے پالنہار! مجھے اجر وثواب سے نواز، میری دعا قبول فرما اور مجھے نیک عمل کی توفیق ارزانی کر۔

آپ﷐ پر درود وسلام بھیجتے رہیں۔

صلى اللہ علیہ وسلم

 

از قلم:

فضیلۃ الشیخ حسام بن عبد العزیز الجبرین

مترجم:

سیف الرحمن تیمی

binhifzurrahman@gmail.com

المرفقات

1633756919_اللہ غفور اور غفار ہے.pdf

المشاهدات 222 | التعليقات 0